ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہوناورفرقہ وارانہ تشدد کے بعدسوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات؛ بھٹکل کے کچھ لوگوں کے خلاف بھی معاملہ درج

ہوناورفرقہ وارانہ تشدد کے بعدسوشیل میڈیا پر اشتعال انگیز پیغامات؛ بھٹکل کے کچھ لوگوں کے خلاف بھی معاملہ درج

Thu, 14 Dec 2017 11:28:01    S.O. News Service

بھٹکل 14/ڈسمبر (ایس او نیوز) ہوناور میں 6/ڈسمبر کو فرقہ وارانہ تشدد کے جو واقعات پیش آئے تھے، اُس کے بعد سے سوشیل میڈیا بالخصوص وہاٹس ایپ کے ذریعے اشتعال انگیز پیغامات روانہ کرنے پر ضلع کے مختلف علاقوں کے کئی لوگوں کے خلاف معاملات درج کئے گئے ہیں۔ ذرائع سے ملی اطلاع  کے مطابق  وہاٹس ایپ گروپ بینکی بوائز،  شنکر نائک (بھٹکل)، سورج کھاروی، ریشی تانڈیل، سبرامنیم پٹگار (بھٹکل)، گریش نائک چیتّار، راجیش نائک ۔ پوسٹ کارڈ ڈاٹ نیوز کے خلاف کاروار تحصیلدار نے معاملات درج کئے ہیں۔

اُدھر گوکرن کے ایک ذرائع سے ملی اطلاع کے  مطابق  روہنی جٹی نائک (بھٹکل)، کرن ناگراج پال (سرسی)، سویتا دیش بھنڈاری (سرسی)،  شیوانند شٹی (انکولہ) کو  سوشیل میڈیا کے ذریعے  اشتعال انگیزی پھیلانے  کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور گوکرن کے پولس سب انسپکٹر  سنتوش کمار اور ان کی ٹیم معاملے کی چھان بین کررہے ہیں۔

خیال رہے کہ ہوناور میں تشدد کے واقعات کے دوران ایک نوجوان کی موت واقع ہوگئی تھی، جس کے بعد سے سوشیل میڈیا پر کچھ لوگ اشتعال انگیزی پھیلاتے ہوئے دو فرقوں کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے اور ایک دوسرے کے خلاف  اُکسانے میں لگے ہوئے تھے۔ 

ہوناور میں نوجوان کی موت کے بعد بی جے پی اور سنگھ پریوار کے لیڈروں نے ہوناور میں ہنگامہ برپا کرتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف زہرافشانی کی تھی، یہاں تک کے مسلمانوں کے خلاف  اشتعال انگیز بیانات دینے کے لئے مقامی رکن پارلیمان کے ساتھ ساتھ چکمنگلور کی رکن پارلیمان شوبھا کرندلاجے بھی ہوناور پہنچ کر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات جاری کئے تھے۔


Share: